ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ترقی کے نام پر عوام پرمہنگائی کابوجھ ڈالنے کی کوشش ترقی چاہئے تو ٹیکس ادا کرنا ہوگا:ارون جیٹلی

ترقی کے نام پر عوام پرمہنگائی کابوجھ ڈالنے کی کوشش ترقی چاہئے تو ٹیکس ادا کرنا ہوگا:ارون جیٹلی

Mon, 02 Oct 2017 10:23:07    S.O. News Service

فرید آباد ،یکم اکتوبر (یو این آئی) مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت کے تعلق سے جاری بحث کے دوران وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ملک کی ترقی کا مطالبہ کرتے ہیں انہیں اس میں خود ہی تعاون کرنا چاہئے اور ایمانداری کے ساتھ ٹیکس کی ادائیگی کرنی چاہئے ۔مسٹر جیٹلی نے آج یہاں نیشنل اکیڈمی آف کسٹمس اکسائز اینڈ نارکوٹکس کے یوم قیام کے موقع پراورریوینیوافسران کے67ویں بیچ کی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کسی بھی ملک کو چلانے کے لئے ٹیکس ضروری ہے اور اس آمدنی کے حصول کے بعد ہی ہندوستان ترقی پزیر ممالک سے ترقی یافتہ معیشت بن سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے معاشرے میں جہاں لوگ ٹیکس کی ادائیگی کو اہمیت نہیں دیتے ہیں لیکن وقت بدلنے کے ساتھ اب لوگوں کی ذہنیت تبدیل ہورہی ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ٹیکس کی ادائیگی کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے اب ہر قسم کے ٹیکس کوضم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ٹیکس کے ڈھانچے میں ایک بار تبدیلی کر دی جاتی ہے تو بہتری کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔وزیرخزانہ نے ٹیکس کی ادائیگی کے لئے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کے معاملے میں کسی طرح کی کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ٹیکس حکام کو اس کے لئے سختی سے کام کرنا چاہئے اور جو افراد ٹیکس کی ادائیگی نہیں کر رہے ہیں ان کی ادائیگی کو یقینی بنایا جانا چاہئے لیکن جو لوگ ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے ان پر غیر ضروری بوجھ بھی نہیں ڈالا جانا چاہئے ۔مسٹر جیٹلی نے کہا کہ جب ملک کی معیشت بڑھ رہی ہے تو لوگوں پر بالواسطہ ٹیکس کا بوجھ زیادہ ہو گیا ہے ۔ ڈائرکٹ ٹیکس معاشرے کے امراء دیتے ہیں جبکہ بالواسطہ ٹیکس ہر کسی کے لئے بوجھ ہے ۔ لہٰذا ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی مالی پالیسی میں بنیادی چیزوں پر کم سے کم ٹیکس رکھیں۔انہوں نے پاس آؤٹ ہونے والے افسران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب سیول سرویس کے افسر ان کو اعلیٰ طبقہ کا سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس خیال میں کافی تبدیلی آ گئی ہے اور وہ سسٹم میں بہتری لانے اور اپنی خود احتسابی کے تئیں مصروف عمل ہیں۔وزیر خزانہ نے ان افسران کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اپنا طرز عمل مناسب رکھیں اور ایک صحیح نقطہ نظر اختیار کرتے ہوئے اپنی غیرجانبداری برقرار رکھیں۔مسٹر جیٹلی نے اپنی تقریر میں سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کا نام کہیں نہیں لیا لیکن انہوں نے مسٹر سنہا کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا بالواسطہ جواب بھی دے دیا کہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ٹیکس ادا کیا جانا چاہئے اور ٹیکس نظام کو بہتر بنانا کتنا ضروری ہے ۔دوسری جانب اقلیتی امور کے مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ ترقی کا مذاق اڑانے سے ترقی کا مزاج نہیں بدلتا۔مسٹر نقوی نے پارٹی کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گاؤں غریب، کسان نوجوان کو مرکز بناکر’’ترقی کا مزاج‘‘بتایا ہے ۔ بدعنوانی سے پاک اور ترقی پر مبنی نظام مرکزی حکومت کا عزم بھی ہے اور سوچ بھی۔انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی پارٹیاں ا ور معدودے چند لوگ مسٹر مودی کو کوستے کوستے جنتا سے کوسوں دور ہوگئے ہیں۔ کوسنے والوں اور کام کرنے والوں کے درمیان مقابلہ چل رہا ہے جس میں جیت کام کرنے والے کی ہوگی۔مسٹر نقوی نے کہا کہ کچھ لوگ وزیر اعظم کو کوسنا اپنا حق سمجھتے ہیں جب کہ مسٹر مودی ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا اپنا مذہب سمجھتے ہیں۔مسٹر نقوی نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ تین سال کے دوران دنیا کی ہندوستان کے تئیں سوچ اور نقطہ نظر میں مثبت تبدیلی لائی ہے ۔آج دنیا کا ہر ملک ہندوستان کو مضبوط اور ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر تسلیم کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ ترقی پسند اتحاد(یو پی اے ) حکومت کے دوران ملک کی شرح ترقی تقریباً4.5فیصد تھی جسے ان کی حکومت نے محض تین سال میں 7فیصد کے اوپر پہنچا دیا ہے ۔ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر37بلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں ۔3برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری 6ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے ۔ بچولیوں کو ختم کرکے ضرورتمند وں کے اکاؤنٹ میں راست طریقے سے2لاکھ کروڑ روپئے پہنچے ہیں۔ تین سال میں15کروڑ سے زائد لوگوں کو’’جن سورکشایوجنا‘‘میں شامل کیا گیا ہے جبکہ30کروڑسے زیادہ نئے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ نے آج الزام لگایا کہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اعدادوشمار کو نظر انداز کرکے گجرات کی ترقی کا مذاق اڑارہے ہیں ۔ مگر اس سال اسمبلی انتخابات کے بعد گجرات کے عوام انہیں آئینہ دکھادیں گے ۔میں وکاس ہوں، میں گجرات ہوں کے نعرے کے ساتھ وسطی گجرات میں سردار پٹیل کی جائے پیدائش کرمسد سے شروع ہوئی برسراقتدار بی جے پی کی پہلی گجرات گورو یاترا کو ہری جھنڈی دکھانے کے لئے منعقد تقریب میں مسٹر شاہ نے یہ الزام لگایا کہ مسٹر گاندھی کی تین تین پیڑھیوں نے گجرات کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔کانگریس نے سردار پٹیل کے مجسمے کوپارلیمنٹ کمپلکس میں لگانے کی اجازت نہیں دی اور انہیں بھارت رتن بھی نہیں دیا۔ مسٹر شاہ نے گجرات میں1995تک کانگریس کے اقتدار اور اس کے بعد 22سال کے بی جے پی کے دور اقتدار میں ہوئی ترقی کا تفصیل سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ گجرات بی جے پی کے دور میں ملک میں نمبر ایک ریاست بن گیا ہے ۔یہاں فی کس آمدنی13665روپے سے بڑھ کر141504روپے ہوگئی ہے ۔


Share: